مجھے صرف ایک مسلم نوجوان کی حیثیت سے سنا جائے :الگار پریشد مے شرجیل عثمانی کی پوری تقریر

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہنشین پر  تشریف فرما ئے تمام مہذب حضرات میرے دوستو بڑے بزرگوں اپ سب سے ایک درخواست كرتا ہوں کہ مجھے  میرے نام, میری شہریت ,میری خوبیوں, میری خامیوں ,سے پرے ہٹ کر مجھے محض ایک مسلم نوجوان کی حیثیت سے سنے   جو اپنے درد کی ترجمانی کہنے اپنے لوٹے  ہوئے گھر کی کہانی کہنے اپنے غصہ کا پیغام دىنے اور اپنی جنگ کا اعلان کرنے کے لئے  یہاں موجود ہے.

 آپ سبھی کو میں  بہت ادب کے  ساتھ سلام پیش کرتا ہوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ .آپ پر میرے رب کی برکتیں اور سلامتی ہو .عزیز دوستوں  جب ہرشالی جی نے مجھے پروگرام میں آنے کی دعوت دی تو  میں پریشان ہوگیاایک  ڈر تھا کیوں کہ یہ پہلی دفعہ ہے جب میں بنیادی طور پے کسی غیر مسلم سماج کے سامنے اپنی بات رکھنے جا رہا ہوں تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا , بات کیا کرنی ہے کیسے کہنی ہے سو اگر کسی بات سے اگر آپ کا اختلاف ہو آپ کو پسند نہ آئے تو میں آپ کو پہلے سے ہی  ایک تو معذرت خواہ ہوں دوسرا میں چاہوں گا کہ آپ اپنا اختلافات یہاں پر بتا کر جائیں .

اصل میں ابھی ، پرشانت بھائی کے بولنے کے بعد کچھ بچتا نہیں ہے چلیئے لیکن جب ہم یونیٹی آف آپ ریسٹ کی بات کرتے ہیں کہ سبھی کبھی مظلوم قوم ایک ساتھ آئی اور اس ظلم کے خلاف لڑائی لڑے اور یہ بات تیس سال سے اس ملک میں کہی جا رہی ہے لیکن پریشانی یہ ہے کہ دلت سماج کا کوئی نیتا اسٹیج پر سے سے بولتا ہے کے ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں مسلم سماج کا نیتا  اپنے ا سٹیج سسے بولتا  ہے کہ ہم دلت کے ساتھ  ہیں, لیکن سماج میں اجتماعیت کے طور پر کوئی دوستی نہیں ہے باہر ہم دشمن ہی ہیں بس اس مجمعے میں جب آکر بیٹھتے  ہیں تب سبھی دوستی سبھی درد نذر آنے لگتے ہیں ,تو اس میسج کو اپنے- اپنے گھروں تک, اپنے محلے تک جب تک ہم نہیں پہنچائیں گے تب تک لارجر, الائنس کی بات کرنا ,تب تک یونیٹی کی بات کرنا اپنے آپ میں بے ایمانی ہو گی .ہم عظیم بھیما  کورے گاؤں کی جنگ کو یاد کرنے اور موجود ہیں .آپ ایک دفعہ کورے گاؤں کو یاد کریں اس عظیم جنگ کو یاد کریں. جب آپ نے پیشوائی کے خلاف انقلاب کا نعرہ دیا اور ان سے لڑنے آگے بڑھے تو کیا آپ کے ساتھ تکبیر کے نعرے کے ساتھ ہاتھوں میں تاریخ لیے مسلمان ساتھ نہیں تھے اگر تب لڑ سکتے ہیں ساتھ میں تب شہادت دے سکتے ہیں ساتھ میں تو آج کیوں نہیں میری شناخت اکثر سی- اے-اے  (CAA) احتجاج سے کی جاتی ہے. مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں اس احتجاج کے بارے میں کچھ باتیں کہو آپ کو معلوم ہوگا کہ سی-اے- اے، این-آر-سی، جو بھی لایا تھا وہ بل کہتا کیا ہے,  یہ تو آپ لوگ جانتے ہیں بل بولتا ہے کہ پاکستان, افغانستان, اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو چھوڑ کر سبھی مذہب کے لوگوں کو ناگرکتا دی جائے گی اور  ناگرکتا  بھی ان لوگوں کو دی جائے گی جن پر ظلم ہو رہا ہے .مسلمان 25 فیصد ہوگا اس ملک میں 130 کروڑ جاتی ہے کیا ایک سو پانچ کروڑ بقیہ لوگ ان میں سے کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کے شرلنکا میں بھی تامل ہیں ,ان کے ساتھ بھی تو ظلم ہو رہا ہے سری لنکا کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ,افغانستان میں بدھسٹ ہیں کچھ ان کو بھی  بلا لیا جائے . بغل میں برما بھی ہے پورا  وہاں پروگوم ہوگیا میں یہاں پر جینو سائٹ ہو گیا .

 ان کو بھی بلا لیتے یہ سوال نہیں  پوچھتے ہیں.  پھر آپ یہ بھی دیکھیے کی بنگلہ دیش سے کوئی ہندوستان کیوں آئے گا , مطلب آپ کے پاس دینے کے لئے کیا ہے ان کی جی-ڈی-پی (GDP) ہم سے زیادہ ہے ان کے پاس نوکری ہم سے زیادہ ہے آج کے وقت میں کوئی کیوں آئے گا .

اب اس کے پیچھے سیاست یہ ہے کہ ار -ایس-ایس (RSS)  کے فاؤنڈر نے بولا کہ اپنی کتابوں میں صاف لکھا کہ عیسائیوں کو مسلمانوں کو اور کمیونسٹوں کو ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہیں اگر ان کو رہنا ہے تو ہندو بن کر ر ہیں,  ورنہ ان کی شہریت ان کے پاس کوئی سیٹیزن شپ رائٹ نہیں رہے گا , اس سے پہلے ایک اہم چیز پر بات کرنی ہے ایک بہت بڑا جھوٹ بولا گیا تھا ہم سے اور یہ ہم سب کے دل و دماغ میں بسا ہوا ہے وہ چھوٹ ہے کہ ہم سب ایک قوم ہیں اس ملک میں رہنے والے سبھی لوگ ایک قوم ہے یہ جھوٹ انیس سو تیس(1930)  کے آس پاس کانگریس پارٹی نے کہا تھا کہ ہم سب ایک راشٹر ہے ایک قوم ہے بابا صاحب امبیڈکر نے کہا , نہیں دلٹ تمہاری قوم کا حصہ نہیں ہے قائد اعظم نے کہا مولانا حسرت موہانی نے کہا نہیں,  نہیں مسلمان تمہاری قوم کا حصہ نہیں.  بہرحال آج جب باقی سبھی باتیں کنارے کرکے یہ مان لیا گیا تھا کہ ہم ایک ہے اور اس کی وجہ سے وہ اک نعرہ لگاتے ہیں کہ ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ہم چاروں ہیں بھائی بھائی بہت بے ایمان لوگ ہیں.

 یہ تو ہندو مسلم سکھ عیسائی کے علاوہ بھی بہت ساری قوم ہندوستان میں رہتی ہیں جن کو اس نعرے میں شریک نہیں کرتےاور دوسرا میں یہ سوال پوچھو کہ  پوچھو کی جب ہندو مسلم سکھ عیسائی چاروں بھائی ہیں تو ہر بار صرف ایک ہی بھائ پر  ظلم کیوں ہوتا ہے. 

 ہر بار صرف ایک ہی بھائی کیوں مار کھاتا ہے یہ ضروری سوال ہے جب تک ان سوالوں کے صحیح جواب نہ ملے لڑائی کو کیسے آگے لے کر جائیں گے انہوں نے ایک راشٹر بتائے ہندوستان ایک راشٹر ہے اور جب راشٹر بنتا ہے تو اس راشٹر  کی پاور, ایجنسی راشٹر کو ڈیفائن کرنے کی پاور جس کے پاس ہوگی وہی فیصلہ لے گا کی راشٹر کیسا ہوگا کیا پاور ہوگی,  تو اب تک ک اس راشٹر کی پاور انہیں لوگوں کے پاس ہے جو ستا میں ہیں ,ہم کو اور سبھی بھی مظلوم قوموں کو چاہیے ایک ساتھ آئی اور ان سے وہ پاور چھین لی اور کہیں کہ راشٹر تمہارا نہیں ہمارا ہے-

اور سمویدھان (Constitution)  کی بات بار- بار ہوتی ہے اور سمجھنا کیا ہے اگر آسان زبان میں کسی کو سمجھا نہ ہو کہ سمودھان (Constitution)  کیا میں کیا ہے واٹ از کانسٹیٹیوشن ( What is constitution )؟ تو یہ جو سبھی قوم ہندوستان میں رہتی ہیں, سبھی کو ایک ساتھ امن کے ساتھ برابری کے ساتھ رکھنے کے لئے ,سبھی قوموں کے بیچ میں ایک کانٹریکٹ  (Contract) ہوا تھا ایک ڈیل سائن ہوئی تھی ایک معاہدہ ہوا تھا.

 اور وہی معاہدہ  وہی ڈیل وہی کنٹریکٹ(Contract)  ہے ہمارا سمویدھان  اور آج جب سمویدھان  کو بچانے کی لڑائی لڑی جارہی ہے تو آپ کو اس کانٹریکٹ کو بھی پورے طریقے سے لاگو کرنا پڑے گا . جس میں میں اور آپ سب برابر ہوں, اس کے لئے ہم لوگوں کو اپنی آپسی لڑائی اور آپسی رنجش کنارے کرکے ایک وقت کے لئے کچھ وقت کے لئے ساتھ ہوکر اس لڑائی کو لڑنا پڑے گا , مگر- اگر سمدھان (Constitution)  لاگو نہ ہو اگر سمدھان کی کوئی حیثیت نہ بچے ,کسی بھی سماج میں اگر کانٹریکٹ کی حیثیت نہ بچے  کسی سماج ممیں تو  کانٹریکٹ ختم ہو جاتا ہے , اور کانٹریکٹ ختم ہونے کی صورت میں جنگ ہوتی ہے. میں بہت ہی سوچ سمجھ کر یہ کہ رہا ہوں کی ہم جنگ کی حالت مے ہیں . اور ہم جنگ مے جی  رہے ہیں .

 اسٹیٹ کے سبھی آرگن (Organs) جیوڈیشیری (Judiciary) , پولس(Police) , لیجسلٹیو ایکزیکٹیو (legislative executive), میڈیا     (Media) یہی پانچ آرگن ہے ہمارے اسٹیٹ میں .جیوڈیشیری(Judiciary)  کا کیا حال آپکو بخوبی معلوم ہے . منور فاروقی  ایک کامیڈین(Comedian )  جس کا زکر پرشانت بھای نے کیا وہ ایک چٹکلا سنانے والے تھے سنایا نہیں تھا سنانے والے تھے اور اس سے ماحول خراب ہو سکتا تھا اس وجہ سے آج وہ جیل کے پیچھے ہیں.  جج(Judge)  کہ رہا ہے ہندوستان بہت خوبصورت دیس ہے لیکن تمہیں بیل نہیں دینگے.  بابری مسجد کا فیصلہ اس کو ہی دیکھیے , کل ملا کر میں جیوڈیشیری(Judiciary)  کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا,

جیو ڈیشنری آج کے وقت میں میرے نزدیک بھروسے کے لائق نہیں ہے .اگر سرکار کے مخبر یہاں بیٹھے ہیں تو میں  ان کیلئے دوبارہ  بول رہا ہوں کی آئی ڈونٹ ٹرسٹ انڈین جوڈیشری( I dont trust in indian Judiciary) . اسٹیٹ کی ذمہ داری یہ ہے کہ اسٹیٹ کے آرگن کے اوپر بھروسہ سٹیزنز(Citizens) کریں.

 اگر سیٹیزن بھروسہ کرنا چھوڑ دیں تو اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے وہ معافی مانگے وہ آگے بڑھ گیا ہے  وہ پہل کریں یہاں ہم سے غلطی ہوئی ہے. ہم غلطی تسلیم کرتے ہیں آگے سے ایسی بات نہیں ہوگی, لیکن ہمارے یہاں ان فیصلوں کو سیلیبریٹ (Celeberate) کیا جاتا ہے . پولیس کے بارے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں , اتر پردیش سے میں آتا ہوں وہاں کا مکھ منتری( Chief Minister)  بولتا ہے کہ ہم انکاؤنٹر کریں گے, لیکن انکاؤنٹر ایک مجاک ہوتا ہے کہ سامنے سے کوئی آ گیا اور گولی چلا دی تو پولیس کو بھی گولی چلانی پڑتی ہے. ہمارا چیف جسٹس بول رہا ہے کہ ہم انکاؤنٹر کریں گے, اور اپنی حکومت میں آنے کے بعد اگلے ایک سال تک 19 لوگوں کو مارا ,سبھی مسلمان یا دلت.

 اور یہ ان کاؤنٹر کرنے والی پولیس سی اے اے این آرسی(CAA-NRC) کے پروٹیسٹ(protest)  پہ اتر پردیش میں سینے پر گولی چلا دی بولتی ہے پاکستان چلے جاؤ .

ایک پولیس افسر بولتا ہے پاکستان چلے  جاؤ,  کوئی مجھے سمجھائے کہ میں کیسے بھروسا کرو اس پولیس پے,  آئی ڈونٹ ٹرسٹ ان انڈین پولیس ( I dont trust in Indian Police) پاکستان  ہے ,شری لنکا ہے, بنگلہ دیش, امریکا ہے رشیہ ہے, ان کے پاس ہونے بھر سے ہے ہم زندہ باد کا نعرہ لگایں آپ بہت اچھے ہوتے آپ کے یہاں سب برابر ہوتا آپ کے یہاں کوی بھوکا نہ سوتا,  آپ کے یہاں کوی جیلوں میں نہ ہوتا, آپ کے یہاں کرائم(Crime)  نہ ہوتا .آپ کے یہاں انصاف ہوتا تو خوشی کے ساتھ ,فخر کے ساتھ سب بولتےزندہ آباد.    چاہیں پاکستان   , ہندوستان  کوئی ملک ہو آپ کے یہاں بھی وہی برای ہے. ان کے یہاں بھی وہی برای ہے تیسرے کے یہاں بھی وہی برای ہے .تو ہونے کی وجہ سے ہم زندہ باد کیوں بولیں کہ تم ہو کہ تم اکزسٹ کرتے ہو تو زندہ باد .

اور نیشنلزم (Nationalism) کے ساتھ ایک یہ بھی پریشانی ہے کہ نیشنلزم کو چاہیے دشمن نہیں تو آپ نیشنلسٹ رہ نہیں پایں گے آپ دیس بھکت رہ نہیں پایں گے مطلب ہندوستان میں نیشنلسٹ ہونا ہے تو آپ کو دوچیز کرنی پڑے ,گی ایک تو بولیے کہ کشمیر ہندوستان کا انٹریگل پارٹ ہے, اور دوسرا بولیے کہ پاکستان مردہ باد. تو آپ نیشنلسٹ ہیں. آپ اس ڈیفینیشن(Definition)  میں آتے ہیں.  پاکستان میں بھی ایسی کوئی ڈیفینیشن ہوگی ,ساوتھ افریقہ میں بھی ایسی کوئی ڈیفینیشن ہوگی ,تو میں نیشنلزم کو نہیں مانتا ہوں.  ایک اور بات صاف کردواب بات یہ کہنی ہے مجھے اور یہ ضروری بات ہے اور خصوصاََ یہی بات کرنے میں آیا تھا اس سے پہلے پریپ ٹالک چل رہا تھا کہ آج کا ہندو سماج بلکل  سڑ چکا ہے. ہندوستان میں ہندو سماج بری طریقہ سے سڑ چکا ہے. 14 سالہ حافظ محمد جونید کوچلتی ٹرین میں ایک بھیڑ  31  بار چاکو مار کر قتل کر دیتی ہے کوی روکنے نہیں آتا.  14 سال کے بچے کو وہ لوگ ہمارے اور آپ کے بیچ میں سے آتے ہیں مار دیتے ہیں  .میں سوچتا ہوں کی یہ  لوگ لنچنگ کرتے ہیں یہ لوگ گھر جا کے کیا کرتے ہیں.  اپنے ساتھ کیا کرتے ہوں گے . اپنے ساتھ کون سی دوا     رکھتے ہیں .   کوئی نیے طریقے سے ہاتھ دھوتے ہونگے ,  کچھ دوا ملا کر نہاتے ہوں گے کیا کرتے ہیں   جو بعد میں ہمارے ساتھ ہمارے بیچ میں اٹھتے ہیں , بیٹھتے کھانا کھاتے ہیں فلمیں بھی دیکھنے جاتے ہیں پھر اگلے دن کسی کو پکڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں,  پھر عام زندگی جیتے ہیں , محبت بھی کر رہے ہیں گھر میں باپ کا پیار بھی پارہے ہیں مندر میں پوجا بھی کر رہے ہیں, پھر باہر آ کر کر یہی کرتے ہیں.  اس طریقے سے نارمل(Normal )  کردیا ہے اس طریقے سے عام   بنا دیا ہے. لنچنگ (Lynching) ہو رہی ہے کوئی بات نہیں .اس سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے وجہ چاہیے ہوتی تھی   —  یہ انڈین مجاہدین سے جڑا ہوا تھا سمی(SIMI)  کا ممبر ہے جو کہانہی بنائی جاتی تھی کسی  دھماکے میں لنک رہا ہوگا اس کے بعد تفتیش شروع ہوتی تھی تو اس کے بعد جائز قرار دیا جاتا تھا .

قتل کرنا ظلم کرنا ابھی وجہ نہیں چاہیے ,   مسلمان ہو مار دیں گے , گوشت کھا رہے تھے مار دیں گے,  ٹرین میں جا رہے ہو بیٹھنے کی جگہ نہیں دو گے مار دیں گے, یہ جس طرح سے عام کیا گیا ہے مسلمان کو قتل کرنا اور سوچیں نہ  کی ہندوستان  میں ہماری لڑائی کس کے خلاف ہے ہماری لڑائی کسی فرد کسی مذہب یا کسی نیتا(Leader)  کے خلاف نہیں ہے کسی پارٹی کے خلاف نہیں ہے ہماری لڑائی نفرت (Hate) کے خلاف ہے وہ نفرت جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو مار دو    ,وہ  نفرت جو کہتی ہے کہ مسلمان کو اپنے محلہ میں کرائے پر گھر نہیں دینا یہ وہی نفرت ہے جس کو جہاں موقع مل رہا ہے وہ کر رہا ہے . آپ مار نہیں رہے ہیں بھیڑ میں جا کر لیکن اگر کوئی رہنا چاہتا  ہے آپ کے گھر میں کرائے پر آکر تو آپ نہیں دے رہے ہیں. مسلمان سے وہی نفرت ہے نا اسی نفرت کی وجہ سے سرکار طاقتور ہوتی ہے . قانون لے کر آتی ہے,  تو اس نفرت کو ختم کرنا  ہے اور اس میں ہمارا کوئی کام نہیں ہے.  نفرت ختم کرنا میرا کام نہیں ہے .مسلم قوم کا کام نہیں نفرت ختم کرنا ان کا کام ہے جو نفرت کر رہے ہیں جو نفرت کر رہا ہے خود کو اپنے آپ کو اس نفرت سے آزاد کرنا پڑے گا نفرت کر رہے ہو یہ غلط ہے,  اور یہ ہم کرتے رہیں گے مگر دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو سالیڈیریٹی ( Solidarity) ملے گی ہمیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں کا لنچ ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں تو مسلمان کی تصویر پیش کی گئی ہے یہ تو وہ پیش کر رہے ہیں کی آتنگوادی(terrorist)  ہے اس کو رہنا نہیں ہے اس کو قتل کر دو. اور آپ پیش کر رہے ہیں آپ سے مراد ہندو سماج(Hindu Society)  کے اچھے لوگ جو اپنے آپ کو اچھا کہتے, جو ہمارے ساتھ ہی بیچارہ ہے مسلمان صرف بچارا رہ سکتا ہے یا برا رہ سکتا ہے اس کے بیچ میں مسلمان کے لیے کوئی تصویر ہی نہیں آپ یہ سوچیں کی میں 23 سال کا نوجوان ہو    ابھی -ابھی بی اے(B.A)  پاس کیا ہے میری ماں میرے لئے کیا خواب  دیکھتی ہے کہ میں اچھی جگہ پڑھو ا,چھی نوکری کرو عزت کے ساتھ زندگی گزاروں, عزت کے ساتھ  فیملی بناؤ لیکن میری ماں میرے لیے کیا خواب دیکھے گی- کس سفر میں ہوں تو بچ کے رہنا جو پولیس نے پکڑ لیا زندہ بچ کر گھر آ جانا یہ دعائیں کرتی ہے, یہ چاہتے ہیں کہ ان کو انہی سب باتوں میں الجھا  کر رکھیں تاکہ ہم اصلی سوال نہ پوچھ  پایں کہ ہمارے لوگ پولیس میں تو صرف دو پرسنٹ ہیں لیکن ہمارے لوگ جیلوں میں 30 پرسنٹ ہیں,  ہمارے لوگ سانسد(MP) میں 4 پرسنٹ ,کل آبادی کا صرف چھوٹا سا حصہ لیکن جیلوں میں, دنگوں میں انکاؤنٹر کی لسٹ میں ,مرے ہوئے لوگوں کی لسٹ میں سب سے زیادہ ہم ہیں, یہ نہیں چاہتے کہ ہم ان سے سوال پوچھیں اس پر بات کریں چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ساری بات انہیں مسئلوں  پر لا کر چھوڑ دیں تو اب ایسا  ہوگا نہیں اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے یہ بات یہ دھمکی ہے ہماری طرف سے  ہندو سماج کے لوگوں کے لیے انسان کتنا بھی کمزور ہو کوئی بھی زندہ  انسان ہو یا جانور کتنا بھی کمزور ہو اگر آپ اس کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو پلٹ کر ایک بار جواب ضرور دے گا .اگر چھپکلی کاٹتی نہیں کسی کو پریشان کر کے دیکھیں دو بار کاٹ لے گی.  تو اتنا بھی نہ کریےکہ پلٹ  کر جواب دینا پڑے اور یہ لڑائی جو بات کہہ رہے ہیں کہ  بھیما کورے گاؤں کو دوبارہ یاد کر رہے ہیں. یلگار پریشد (Elgar Parishad )ہے یلغار کا مطلب ہوتا ہے جنگ کا اعلان اور جنگ کا اعلان جب ہی کر سکتے ہیں جب ہمارے بیچ میں لوگ شہادت ( Sacrifice) دینے کو تیار ہوں. تب شہادت دینی تھی اپنی زندگی ,آج بہت چھوٹی- چھوٹی شہادتیں دینی ہیں .خود کا بیٹا ہے نفرت کرتا ہے اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے اس کو مسلسل سمجھاتے رہنا کہیں وہ تمہارے برابر ہے اس سے محبت کرنا سیکھو ,اسکول میں مندر میں کہیں پر بھی نفرت سکھایا جائے واپس آکر آپ گھر میں بتائیں دوبارہ کی سیکھو آپ کا استاد ہ ہے .کلاس میں آپ سے آپ کو بار- بار یاد کراتا ہے کہ دو درجے کے شہری ہیں آپ مسلمان ہیں آپ دلت ہیں جیسے بابا صاحب کوکرایا گیا اور اس سے لڑنا اسی کلاس میں یہ بھی شہادت ہے ,یہ چھوٹی- چھوٹی سی شہادتیں زیادہ ضروری ہے آپسی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے,  نفرت کو ختم کرنے کے لیے اس کے ساتھ جب- جب لڑائی کی بات ہو جنگ کی بات ہو , جنگ کا اعلان ہو لڑنے والے لوگ ہو,  تو بچتا کیا ہے….. وجہ  ” کیوں  یہاں میں یہ مان کر چل رہا ہو یہاں پر سب ہماری کم سے کم یلغار پریشد کی سیاست سے جڑے ہوں گے وابستہ ہوں گے پسند کرتے ہوں گے تبھی موجود ہیں ہیں لیکن یہ ہمارے ساتھ مسلم سیاست کے ساتھ پریشانی ہے کہ عوام کے بیچ میں عوام کے دلوں نے درد اور رنج ہم اپنے دلوں میں لے کر چل رہے ہیں  ,اتنے لوگوں کے دلوں میں نہیں پہنچا پا رہے ہیں پر اس کو پہنچانا  ہے.  اس کو ان کو بتانا  ہے اور آخری چیز کہنی تھی کہ اسلام کا پچھلے دنوں میں پچھلے چھ سالوں (Last six years) میں مسلمانوں پر لگاتار حملے تو ہوئے لیکن اس سے زیادہ ہمارے مذہب پے, تو کوئی بھی اگر کچھ بھی بول  سکتا ہے. چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں اسی مہینے میں  ایک سیمینار ہوا  اس میں اسپیکر(Speaker) کھلے طور پر قرآن پڑھے گا انسان تو انسان سے حیوان بن جائے گا , اور ان کو مارنا ہے ہندو راشٹر چار سال میں بنے گا اس کے بعد آپ دیکھیں گے ان کی کوئی  اوقات نہیں رہے گی. ان کی بیٹیاں آپ کے پاس ہوگی یہ جو لوگ ہیں جو آپ کے سماج  کو اس طریقہ سے برباد کر رہے ہیں اور آپ کے جو بچے ہیں تو اسے فنکشن میں جا رہے ہیں ہماری انگلی دونوں کی طرف ہوگی آپ کھیچ کر اپنے لوگوں کو وہاں سے  نکالنی ہے اور ہم کھینچ کر کے اپنے لوگوں  کو ایسی جگہوں سے نکالیں گے .تبہی ساتھ تبہی ایکتا کی بات ہوگی ,قسمیں وعدے نعرے لگانا ہمارا کام نہیں ہے. وہ ایک الگ, ایک خاص نیتا ہوتے ہیں دلی (Delhi) سے آتے ہیں آزادی کے نعرے لگائیں گے اور چلے جائیں گے. کام کچھ نہیں ہوتا اس سے, کام ایسے ہوگا کہ بات ہو سماج میں ان سے بات کرنا ہے جن کو ہماری بات پسند نہیں ہے ان کو سمجھانا ضروری کام  ہے .آپ کے بات مجھے پسند ہے میری بات آپ کو پسند ہے سن رہے ہیں تالی بھی بجا رہے ہیں گھر چلے جا رہے ہیں آزادی ایسے آزادی نہیں آتی لوگوں کو اکٹھا کرنا پڑے گا…..  

 ہم امن  چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف                  

اگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *